اہل بیت نیوز ایجنسی کے مطابق، پاکستانی فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت راولپنڈی میں 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستانی فوج کے مطابق کانفرنس نے افغانستان سے مبینہ طور پر جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف ہدفی کارروائی کو پاکستان کے حقِ دفاع کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ طالبان کی قیادت، جس پر پاکستان نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا ہے، اس کے نتائج کی ذمہ دار ہوگی۔
کانفرنس میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ مقامی سطح پر عوام پر مبنی طرز حکمرانی، عوام سے رابطے، دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کے خاتمے اور پولیس کی استعداد بڑھانے جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں۔
پاکستانی فوج نے داخلی استحکام پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ 9 مئی جیسے کسی بھی انتشار کی کوشش سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ کانفرنس نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
پاکستان اور طالبان کے درمیان تعلقات 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بتدریج کشیدہ ہوئے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کارروائیاں پاکستان کے لیے سکیورٹی خطرہ بن رہی ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دہشت گردی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے۔ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی اور افغانستان میں پاکستانی فضائی کارروائیوں کے باعث اختلافات مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ